My Urdu Tutor

My Urdu Tutor

ناول “غالب” میں زوال پذیر ہند مسلم تہذیب کی عکاسی

Abstract:

This research paper analyzes the decline of Indo-Muslim civilization as depicted in Qazi Abdus Sattar’s historical novel “Ghalib”. By blending literary narrative with historical evidence, the study explores the tragic collapse of the Mughal Empire during the ء1857 War of Independence. It identifies the primary causes of this downfall as the political helplessness of the King, the rise of incompetent officials, and the devastating role of internal spies who betrayed the state for personal gain. Furthermore, the paper examines how economic crisis, famine, and social fragmentation accelerated the ruin of Delhi’s shared culture. The research concludes that the fall of this civilization was not just a military defeat but a profound moral and administrative failure, leaving behind a cultural loss that still resonates in the history and literature of the subcontinent.

Keywords:

Urdu Novel, Qazi Abdus Sattar, Ghalib, Indo-Muslim Civilization, Mughal Decadence, ء1857 War of Independence, Political Impotence, Cultural Erosion, Historical Realism.

ادب  کسی بھی سماج  کا حقیقی ترجمان ہوتا ہے۔ ادیب شعوری یا لا شعوری طور جن پہلوؤں کو قلم بند کرتے ہیں آنے والے دور میں وہی حوالے تاریخی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ ادب  میں نہ صرف حال کی پرچھائیاں نظر آتی ہیں بلکہ اس میں ماضی کا عکس بھی دکھائی دیتا ہے۔ ادیب معاشرے کا فرد ہونے کی حیثیت سے عموماً بنیادی معاشرتی اقدار سے اثر لیتا ہے۔      یہی اثر آفرینی ہمیں اردو ناول نگاروں کے ہاں بھی  پڑھنے کو ملتی ہے۔ جہاں وہ حال اور مستقبل کو موضوع بناتے ہیں تو  وہیں ان کی کہانیوں میں ماضی کی  تہذیبی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے۔  اردو زبان و ادب میں ناول نگاری کا آغاز بھی ایسے دور میں ہوا جب صدیوں سے رائج ہند مسلم مشترکہ تہذیب اپنے انجام کو پہنچ چکی تھی۔

            ہند مسلم مشترکہ تہذیب جسے مغلیہ دور حکومت میں خوب عروج حاصل ہوا  لیکن  ان کے سیاسی زوال کے ساتھ ہی یہ مشترکہ تہذیب بھی زوال کا شکار ہو گئی۔ جو بالآخر 1857ء کی ناکام جنگ آزادی کے موقع پر اپنے انجام کو پہنچی۔1857ء  محض ایک سیاسی شکست  کا سال نہیں تھا بلکہ یہ ایک صدیوں سے رائج تہذیب کی موت کا سال بھی ثابت ہوا۔  جن لوگوں کی سرپرستی  میں مشترکہ تہذیب کو فروغ ملا وہ یا تو ملک بدر ہو گئے یا  انگریزوں کے سامنے دست نگر ہو گئے۔  اس تہذیبی زوال نے سب سے پہلے اس نفیس انداز رہن سہن کو نشانہ بنایا جو صدیوں کی محنت سے وجود میں آیا تھا۔    پھر وقت کے ساتھ ساتھ تمام تہذیبی اقدار اس زوال کی نذر ہوتی گئیں۔ اردو ادب بالخصوص اردو ناول میں اس تہذیبی انحطاط کو خاص طور پر موضوع بنایاگیا ہے۔

اردو ناول  کے اولین دور  میں بالخصوص  مولوی نذیر  احمد،  مرزا ہادی رسوا، عبدالحلیم شرر وغیرہ کے  ناولوں میں ہمیں مشترکہ ہند مسلم تہذیبی بازگشت سنائی دیتی ہے۔   پھر اس کے بعد ناول نگاروں کی ایک طویل فہرست ہے جنھوں نے ماضی کو ٹٹولنے کی کوشش کی۔  جن میں پریم چند ، عزیز احمد،  کرشن چندر  ، احسن فاروقی، قرۃالعین حیدر، نسیم حجازی، قاضی  عبدالستار  وغیرہ  کے نام نمایاں ہیں۔

قاضی عبدالستار اردو ناول کی دنیا میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے تاریخ کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا۔  قاضی عبدالستار نے  اردو زبان  و ادب میں تاریخی ناول نگاری کی روایت کو اک نئی جہت عطا کی۔ انھوں نے جس انداز کے ساتھ تاریخی حالات و واقعات کا احاطہ کیا ہے، اس سے ان کی گہری تاریخی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔  ان کے تاریخی و تہذیبی  شعور اور مطالعے و مشاہدے کی عرق ریزی نے انھیں انفرادیت بخشی ہے۔   انھوں نے   اپنے  ناولوں “صلاح الدین ایوبی”، “دارا شکوہ”،  ” غالب” اور ” خالد بن ولید”   میں متعلقہ عہد کی تاریخی و تہذیبی پیچ و خم کو غیر جانب داری  سے پیش کیا ہے۔      اس حوالے سے ڈاکٹر احمد خان  اپنے مضمون “قاضی عبدالستار کے تاریخی ناول: ایک تنقیدی جائزہ”  میں لکھتے ہیں:

“قاضی عبدالستارنے اپنے تاریخی ناولوں میں تاریخی حقائق اور عصری زندگی کو خاص اہمیت دی ہے ۔ان کے تاریخی ناولوں کی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے جس عہد کو موضوع بنایا ہے اس کی جیتی جاگتی تصویر کو نمایاں کر دیا ہے۔” (1)

قاضی عبدالستار  کے زیادہ  ناول سوانحی ہیں لیکن در پردہ ان کرداروں کے ذریعے ناول نگار نے  متعلقہ عہد کی تصویر کشی کی ہے۔    انھوں نے ایسا انداز بیان اپنایا ہے کہ  قاری بیان کے سحر میں گرفتار ہو جاتا ہے اور براہ راست اس عہد کا حصہ بن جاتا ہے جس کا وہ مطالعہ کر رہا ہوتا ہے۔

قاضی عبدالستار  کے ناول “غالب” کے حوالے سے بات  کی جائے تو یہ  ایک فرمائشی ناول تھا  جو غالب اکیڈمی(انڈیا)  کے چئیرمین فخرالدین علی احمد  کی فرمائش پر لکھا گیا۔ اس سے قبل قاضی عبدالستار اردو ناول کی  دنیا میں اپنا لوہا منوا چکے تھے۔ یہ فرمائش بھی ان سے اس وقت کی جب آپ کو  آپ کی ادبی خدمات کے عوض “غالب ایوارڈ” سے نوازا جا رہا تھا۔ “غالب” جو کہ ایک سوانحی  ناول  ہے لیکن  قاضی عبدالستار نے اسے لکھتے ہوئے ناول اور سوانح عمری کے فرق ذہن میں رکھا ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار  نجم الدولہ، دبیر الملک، نظام  جنگ  مرزا اسد اللہ خاں غالب ہیں۔  جس کی زبانی ناول نگار نے  نہ صرف  غالب کی زندگی کے چند پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے بلکہ   غالب کے عہد کے خدو خال کو  بھی بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔  ناول میں جہاں  مرکزی کردار کی تخیلاتی دنیا کا بیان ہے تو وہی دیگر  حقیقی واقعات کا بھی عمدگی سے بیان پڑھنے کو ملتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر تاریخی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو 1857ء کی ناکام جنگ آزادی سے قبل کے حالات و واقعات کے ساتھ ناکام جنگ آزادی کو کچھ واقعات کے منظر نامے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

ناول کے آغاز میں قاری کے سامنے انیسویں صدی کے وسط  جہان آباد کی ایک سحر انگیز مگر اداس شام کا نقشہ ابھرتا ہے۔ اقتباس ملاحظہ فرمائیے:

“جہان آباد کے خطِ آسمانی پر شاہجہانی مسجد اپنے میناروں کے عظیم ہاتھ بلند کیے وہ دُعا مانگ رہی تھی جس پر قبولیت کے تمام دروازے بند ہو چکے تھے۔”(2)

 ناول نگار نے دہلی کی تاریخی شاہجانی مسجد کے بلند و بالا میناروں کو دعا کے لیے اٹھتے ہوئے ہاتھوں سے تشبیہ دے کر اس عہد کی روحانی اور تہذیبی وابستگی کو واضح کیا ہے۔  “جہان آباد کا خط آسمانی” محض ایک جغرافیائی حد کا بیان نہیں ہے بلکہ یہ ایسی تہذیبی مرکزیت کی طرف اشارہ ہے جہاں کبھی آسمان علم و ادب کے مہر و ماہ چمکتے تھے۔  اور دوسری طرف اس بے یقینی کا اظہار ہے جو اس وقت مشترکہ تہذیب کے در و دیوار پر رقم ہو چکی تھی۔  قبولیت کے تمام تر دروازوں کا بند ہو جانا دراصل اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ تہذیب جو صدیوں سے ہندوستان میں قائم تھی اب وہ اپنے انجام کو پہنچ چکی تھی۔  اب اس کو کوئی دعا یا تدبیر  اسے تباہ حالی سے نہیں بچا سکتی تھی۔  ناول میں جا بجا تاریخی عمارتوں کا ذکر بھی موجود ہے جس سے مشترکہ تہذیب کی عظمت رفتہ کا اظہار ہوتا ہے۔ لیکن اب وہ بلند و بالا عمارتیں محض  نشان کے طور پر اپنا وجود تو برقرار رکھے ہوئے تھیں  لیکن  ان کے پیچھے وہ اثر اور رعب و دبدبہ ختم ہو چکا ہے، جو کسی دور میں ان کاخاصا ہوا کرتا تھا۔

            زیر بحث ناول میں ہند مسلم مشترکہ تہذیب کا جو منظر نامہ بیان کیا گیا ہے اس کا سب سے الم ناک پہلو بادشاہ کی بے بسی اور اقتدار کا وہ خالی پن ہے،  جس نے مغل بادشاہت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ بادشاہ کی حیثیت محض ایک علامتی ڈھانچے سے زیادہ نہ تھی۔ بادشاہ کی حکمرانی اور اس کا عمل دخل صرف قلعہ معلی کی فصیلوں تک محدود ہو کر رہ گیا۔ اپنی ہی محل میں وہ قیدی کی مانند تھا۔ ایک ایسی سلطنت جس کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا اب وہ ایک ایسی اداس شام کی لپیٹ میں تھی جہاں کوئی بھی امید کی کرن دکھائی نہ دیتی تھی۔ بادشاہ کی لاچاری اور بے بسی محض بادشاہ ہی کی نہیں تھی بلکہ اس پورے سیاسی نظام کی لاچاری اور بے بسی تھی جو صدیوں سے یہاں رائج تھا۔ اس کا اندازہ اس واقعے سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب  ہندوستان کے شہر میرٹھ سے جنم لینے والی بغاوت جب دلی تک پہنچی تو سب سے پہلے بادشاہ نے اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کی۔ بادشاہ نے نہ صرف اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کی بلکہ معذرت خواہانہ انداز میں انہیں اپنی بے بسی اور لاچارگی کا حال بھی سنایا۔  ناول میں قاضی عبدالستار نے  اس موقع پر بادشاہ  کے تاثرات کویوں قلم بند کیا:

“سنو! بادشاہت سو برس پہلے ہمارے گھر سے رخصت ہو چکی۔ ہم فقیر ہیں، اپنی اولاد لیے تکیے میں بیٹھے ہیں۔ خزانہ نہیں کہ تم کو تنخواہ دیں۔ فوج نہیں کہ تمہاری مدد کریں۔ ملک نہیں کہ تم کو تحصیل کے لیے نوکر رکھیں۔ ہاں یہ کر سکتے ہیں کہ انگریزوں سے تمہاری صلح کرا دیں۔” (3)

اس عذر کے بعد بادشاہ کسی طور باغیوں کے ساتھ ہاتھ ملانے کو تیار نہیں تھے۔بادشاہ کی  سیاسی حیثیت تو پہلے ہی ختم ہو چکی تھی اور  اب باغیوں کا ساتھ دینا نام نہاد بادشاہت سے بھی ہاتھ دھونے کے مترادف تھا۔ اس حوالے سے رئیس احمد جعفری اپنی کتاب “بہادر شاہ ظفر اور ان کا عہد” میں لکھتے ہیں:

“بہادر شاہ، مجبوری کے باوجود تلنگوں کے آلہ کار بننے کے لیے تیار نہ تھے۔”  (4)

باغی گروہ ہر صورت بادشاہ کی راہبری چاہتا تھا کیونکہ بادشاہ کے علاوہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ بادشاہ جو پہلے ہی بے بسی کی تصویر بنا بیٹھا تھا،  اس نے اپنا عذر تو بیان کیا لیکن باغیوں کا اصرار تھا کہ وہ محض کٹھ پتلی بن کر نہ رہیں بلکہ اس تحریک کی کمان سنبھالیں۔ یہ ایک ایسا موڑ جہاں کھوکھلی بادشاہت باغیوں کے جوش و خروش سے ٹکرا رہی تھی۔ باغی جس انداز کے ساتھ بادشاہ کے سامنے پیش ہوئے وہ مٹتی تہذیب کہ آخری سہارے کی دردناک پکار تھی۔ ایک ایسی پکار جو اپنا سب کچھ بادشاہ کے قدموں میں وار دینے کے لیے تیار تھی۔ قاضی عبدالستار نے باغیوں کے اصرار اور بادشاہ کے رد عمل  کو ناول میں کچھ اس طرح سے بیان کیا:

“مہا بلی یہ سپاہی ہیں۔ دربار کے اداب نہیں جانتے لیکن کلکتہ سے کابل تک فرنگیوں نے انہی کے ہاتھوں پر فتح پائی ہے۔ ظل الہی ان کے سر پر ہاتھ رکھ دیں۔ یہ سارا ملک فتح کر کے اپ کے قدموں میں ڈال دیں گے۔ سارے خزانے جیت کر نذر میں گزار دیں گے۔

بادشاہ خاموش رہا تو اس نے آداب گاہ پر سر رکھ دیا۔ بادشاہ کا اس کے سر پر ہاتھ رکھنا تھا کہ تہلکہ مچ گیا۔ بندوقوں اور پستولوں کے فائر ہونے لگے۔ مہا بلی زندہ باد کناروں سے قلعے کی دیواریں ہلنے لگیں۔” (5)

باغیوں کے جذبات اور ان کے ولولے کو دیکھتے ہوئے بادشاہ کے دل میں بھی بغاوت کا عنصر پیدا ہوتا ہے۔ اور وہ بھی باغیوں کا ساتھ دینے پر تیار ہو جاتے ہیں۔  نہ صرف تیار ہو جاتے ہیں بلکہ ہر طرح کی مدد اور معاونت کے لیے بھی خود کو پیش کرتے ہیں۔  یہی حوالے ہمیں دیگر تاریخی کتب میں بھی  ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر باغیوں اور بادشاہ کے مابین ہونے والی تکرار کو رئیس احمد جعفری  نے یوں رقم کیا: 

“ان لوگوں نے عرض کی کہ نہ ہم ملک کے خواہاں ہیں نہ فوج چاہتے ہیں۔ ہمارا مقصد صرف اتنا ہے کہ بندگان عالی ہماری سرپرستی فرمائیں۔ ہم لوگ اپنا سر حضور کے قدموں پر نثار کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اور چاہتے ہیں کہ تمام ہندوستان میں حضور کی سلطنت قائم کر کے ابدی نیک نامی حاصل کریں۔ بادشاہ نے یہ سن کر فرمایا کہ تم لوگ جو کچھ کہتے ہو میری بھی دلی آرزو یہی ہے۔ جو کچھ میرے پاس ہے تمہارے واسطے بھی موجود ہے۔ اس کو کھاؤ پیو اور ہمت کر کے مخالفوں کو نکال دو اور میرا سکہ جاری کر دو۔”(6)

بادشاہ نے جیسے ہی باغیوں کی سرپرستی کو قبول کیا تو دہلی شہر کا نقشہ ہی بدل گیا۔ وہ علاقہ جو خاموشی اور بے بسی کی علامت تھا ایک بار پھر نعروں اور ہتھیاروں سے گونجنے لگا۔ لیکن جلد ہی نظم و ضبط کی کمی اور وسائل کے فقدان نے ایک ایسی صورتحال کو جنم دیا جس نے دہلی کے امن و امان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ باغیوں نے پہلی فرصت میں دلی میں مقیم انگریزوں کو قتل کیا اور خوب لوٹ مار کی۔ اس صورتحال کو قاضی عبدالستار نے ناول کی ایک کردار چغتائی بیگم کی زبانی یوں رقم کیا:

“سنا ہے ہزاروں انگریز مار ڈالے گئے۔ سینکڑوں مکانات جل گئے۔ دکانیں پھنک گئیں۔ ساری رات محلے میں کہرام رہا۔ فرنگیوں کو ڈھونڈنے کے بہانے گھروں میں گھس آتے ہیں۔ جو ہاتھ لگتا ہے لوٹ لے جاتے ہیں۔ یہ جو برابر میں منشی اجن صاحب ہیں، کلاں سب بہادر کی کچہری میں میر منشی! ان کے گھر میں جھاڑو پھیر دی۔ وہاں بادشاہی کا اعلان ہو رہا ہے یہاں آبرو پر بنی جا رہی ہے۔”(7)

باغیوں کی قتل و غارت اور لوٹ مار کے متعلق شوکت علی فہمی اپنی کتاب “ہندوستان پر مغلیہ حکومت” یوں لکھتے ہیں:

“بادشاہ کے گرد ہزاروں بغیر تنخواہ کے سپاہی دہلی میں جمع ہو گئے۔ جنہوں نے پہلے تو انگریزوں کا قتل عام کیا۔ اس کے بعد دہلی کی شہری آبادی کو خوب لوٹا۔”(8)

بادشاہ کے باغیوں کے حق میں اعلان کے بعد فرنگیوں نے اسے محض ایک وظیفہ خوار نہیں بلکہ ایک باغی حکمران قرار پائے۔ بادشاہ کے اس فیصلے نے مقامی اور انگریز لوگوں کو اس نہج پر لا کھڑا کر دیا جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ایک طرف بادشاہ اور لوگوں کے دلوں میں امید کی شمع تو روشن ہوئی تھی لیکن دوسری طرف اس عظیم تباہی و بربادی کا آغاز ہوا جس نے بالاخر مشترکہ ہند مسلم تہذیب کہ مرکز کو ہمیشہ کے لیے اجاڑ کر رکھ دیا۔

بادشاہ کی سیاسی بے بسی اور کھوکھلے پن کا براہ راست اثر اس کے انتظامی ڈھانچے پر بھی پڑا۔ یہ اہم قاعدہ ہے جب مرکزیت کمزور ہوتی ہے تو سب سے پہلے میرٹ کی دھجیاں اڑتی ہیں۔ زیر بحث ناول میں بھی اس پہلو کو خاص طور پر بیان کیا گیا ہے۔ جب مجموعی طور پر سلطنت زوال کی طرف گامزن ہوتی ہے تو وہیں نا اہل اور نا تجربہ کار لوگوں کو بڑے عہدوں سے نوازا جاتا ہے۔ یہ ایسے فیصلے تھے جو آگے چل کر 1857ء  کی جنگ میں انہیں ناکامی سے دوچار کرتے ہیں۔ ناول میں اس صورتحال کا ذکر یوں کیا گیا:

“بادشاہ تخت سے اترا ایک خواص کے طشت سے مرصع  تلوار اٹھا کر میرزا مغل کی کمر میں باندھ دی اور اعلان کیا۔

‘میرزا ظہیر الدین محمد عمر عرف میرزا مغل کو تمام افواج کا سپہ سالار مقرر کیا گیا۔’

یہ سنتے ہی برقندازوں کے ایک دستے نے ہوا میں فائر کیے۔ ساتھ ہی قلعے کے دونوں دروازوں کی توپوں نے سلامی دی۔ میرزا ابوبکر کو شاہی سواروں کی افسری اور میرزا خضر سلطان کو پانی پت پلٹن کی کرنیلی عطا کی گئی۔ ان شہزادوں کو جنہوں نے کبھی شکار کے لیے بھی بندوق نہ بھری تھی۔ انگریزوں کے توپ خانے سے جو جھنے والے لشکروں کا سالار اعظم اور سالار اول بنا دیا گیا۔ خدا کی خدائی اور بادشاہ کی بادشاہی میں کون دخل دے سکتا ہے؟”(9)

اس نازک صورتحال میں نا اہل اور نا تجربہ کار لوگوں کو عہدے عطا کرنا دراصل اس تہذیبی ڈھانچے کی بنیادوں میں تیل ڈالنے کے مترادف تھا جس نے صدیوں کے تجربات اور بے شمار قربانیوں کہ عوض وقار حاصل کیا تھا۔ ان فیصلوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام اور بادشاہ کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور دکھائی دینے لگا۔ یوں عام شہری خود کو بے یار و مددگار محسوس کرنے لگے۔ ناز و نعم سے پلے شہزادے جب میدان جنگ میں اترے تو وہ انگریز توپوں کی گرج کا سامنا نہ کر سکے اور میدان جنگ سے بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔  جو نفسیاتی طور دہلی کے باسیوں کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔ ناول نگار نے اس حوالے سے ایک جنگ کے خدو خال یوں بیان کیے ہیں:

“دوسرا دن ڈوب رہا تھا کہ اس لڑائی کی سناؤنی آگئی۔

ہنڈن ندی کے کنارے جب انگریزی توپ خانے کا سامنا ہوا تو شہزادے  بہادر جو دور ایک چھت پر کھڑے کمان کر رہے یا تماشہ دیکھ رہے تھے، قریب میں گولہ پھٹنے سے اس طرح بےحواس ہو کر بھاگے کہ ان کے ہوا خواہوں کے بوجھ سے ول ٹوٹ گیا اور صرف دو سو آدمی ڈوب کر مر گیا۔”(10)

جہاں بادشاہ کے ناقص فیصلے اس کی سلطنت کو تباہی و بربادی کی طرف لے کر جا رہے تھے تو وہیں گھر کے بھیدی بھی اپنا گھناؤنا کام برابر سے کررہے تھے۔ بادشاہ کے دربار میں کچھ ایسے لوگ تھے جن پر بادشاہ کا اندھا اعتبار تھا۔ لیکن در پردہ وہی لوگ بادشاہ کے فیصلے اور درباری معاملات کو حرف بہ حرف انگریزوں تک پہنچا رہے تھے۔ کہنے کو تو یہ لوگ بادشاہ کے دست راست تھے لیکن درحقیقت انگریزوں کے تنخواہ دار اور مخبر تھے۔ ادھر دربار میں کوئی حکمت عملی انجام پاتی تو ادھر اس کی خبر انگریزوں کو ہو جاتی۔ یوں ممکنہ صورتحال سے پیشگی نمٹنے کے لیے انگریز ہر دم تیار رہتے۔ اس طرح بادشاہ اور اس کے حامیوں کا کوئی بھی وار کامیاب نہ رہا۔ مخبروں نے نہ صرف سیاسی راز بیچے بلکہ انہوں نے بادشاہ اور عوام کے درمیان غلط فہمیاں بھی پیدا کیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بڑی حد عوام بھی مخبروں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انگریزوں کی پشت پناہی کرنے لگی۔ ناول “غالب” میں قاضی عبدالستار نے اس صورتحال کی یوں منظر کشی کی ہے:

“بادشاہ اٹھا تو خواجہ سرا محبوب علی خاں، حکیم احسن اللہ اور الہی بخش اپنے اپنے مخبروں کی ٹولیوں کے ساتھ ہٹو بچو کرنے لگے۔ دلی کا بچہ بچہ جانتا تھا کہ قول و عمل تو ایک طرف بادشاہ کا خیال تک یہ تینوں پہلی فرصت میں انگریزوں تک پہنچا رہے ہیں لیکن اگر نہیں جانتا تھا تو بادشاہ نہیں جانتا تھا۔ ایک بھیدی نے پوری لنکا ڈھا دی۔ یہاں تو پورا قلعہ اور آدھا شہر بھیدی بنا ہوا ہے۔”(11)

یہ محض افسانی قصہ یا کہانی نہیں ہے بلکہ اس کا ثبوت دیگر تاریخی کتب میں بھی موجود ہے۔ بقول رئیس احمد جعفری کے:

“غداران ملک کی تاریخ میں الہی بخش اور رجب علی کا نام غیر فانی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ الہی بخش بہادر شاہ کے سمدھی تھے۔ ان کی لڑکی ولی عہد مرزا فخر الملک کی بیوی تھی۔ بہادر شاہ ان پر بہت اعتماد کرتے تھے۔ اور اعتماد کی وجہ بھی تھی، اگر اتنے قریبی عزیز پر بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا تو کس پر کیا جا سکتا ہے؟ لیکن انہوں نے قلعہ کا رتی رتی حال انگریزوں کو پہنچایا۔ بہادر شاہ کی گرفتاری اور شہزادوں کا قتل انہی کا کارنامہ ہے۔” (12)

اگر غدر کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو مغلیہ سلطنت کو بیرونی حملہ آوروں سے زیادہ نقصان اندرونی غداروں اور درباریوں نے دیا۔ جنہوں نے نہ صرف بادشاہ کے اعتماد اور یقین کا خون کیا بلکہ دم توڑتی تہذیب کی تباہ حالی میں بھی پیش پیش رہے۔ مخبروں نے چند ٹکوں کی خاطر اپنے ضمیر کا سودا کر لیا۔ جب کسی سلطنت کا حفاظتی اور انتظامی ڈھانچہ اندرونی منافقوں کی زد میں آجائے تو بادشاہ کی جواں مردی اور اعلی فیصلے بھی اسے تباہی سے نہیں بچا سکتے۔

1857ء  کی جنگ آزادی میں انگریزوں کی جیت کے پیچھے ایک راز یہ بھی تھا کہ وہ جدید سہولیات سے آراستہ اور وسائل سے مالا مال تھے۔ اور ادھر عوام تو خیر کیا ہی کہنے بادشاہ بھی انگریزوں کی تنخواہ پر گزر بسر کر رہا تھا۔ وسائل کے فقدان کے ساتھ میدان جنگ میں اترنا خود کشی کے مترادف تھا۔ معاشی بدحالی اور اشیاء کا فقدان بھی مشترکہ ہند مسلم تہذیب کے زوال میں پیش پیش رہا۔ اس ضمن میں مقامی کاروباری افراد بھی انگریزوں کی پشت پناہی کر رہے تھے۔  اشیائے خورد نوش کو مہنگے داموں انگریزوں کے ہاتھ فروخت کیا گیا۔  جس کی وجہ سے حالات اور کشیدہ ہو گئے۔  ایک طرف عوام فاقوں سے مر رہی تھی تو دوسری طرف انگریزوں کے جانور تازہ سبزیوں پر راج کر رہے تھے۔ غدر کے دوران کے حالات و واقعات کو بیان کرتے ہوئے قاضی عبدالستار اس حوالے سے لکھتے ہیں:

“سبزی منڈی کی ترکاریاں اور پھل ہمیں دیکھنے کو نصیب نہیں اور انگریزی کیمپ میں جانور کھا رہے ہیں اور ہمارے بھائی پہنچا رہے ہیں۔”(13)

کہتے ہیں جب زوال کسی قوم کا مقدر بن جاتا ہے تو اس کائنات کی کوئی بھی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ بلکہ کائنات خود اس کے زوال کی راہیں ہموار کرتی ہے۔ ایسا ہی کچھ مشترکہ ہند مسلم تہذیب کے ساتھ بھی ہوا۔ نہ ان کے لیے کوئی تدبیر کارآمد ہو رہی تھی اور نہ ہی تقدیر ان کے حق میں تھی۔  

            ناول میں قاضی عبدالستار نے محض سیاسی شکست و ریخت کو موضوع نہیں بنایا، بلکہ خاص طور پر ان امور پر بات کی ہے جو کسی بھی تہذیب کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ جہاں زوال کی دیگر اسباب پر بات کی گئی ہے وہیں ایک سبب قدرتی آفت قحط سالی بھی تھی۔ جس نے دلی کی عوام کو جسمانی اور روحانی طور پر نڈھال کر کے رکھ دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ غدر کے دنوں میں مذہبی کشیدگی بھی سر اٹھانے لگی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک طرف دشمن کی فوجیں سر پر تھی تو دوسری طرف یہ لوگ آپسی عداوتیں لیے بیٹھے تھے۔ اور ایسے بیانیوں کو ہوا دینے والے بھی انگریزوں کے پالے ہوئے تھے۔ جس سے معاشرے میں نفرت کا بازار گرم ہوا۔ 

مجموعی طور پر ناول “غالب” محض غالب کی زمانے کا بیان نہیں ہے بلکہ ایک ایسی تہذیب کی تباہی و بربادی کا نوحہ ہے جس کی مثال تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔ ناول نگار نے غالب کے کردار کو مشترکہ تہذیب اور  1857 کے حالات و واقعات کے ساتھ جوڑ کر اس طرح سے بیان کیا ہے اس عہد کی تصویر صاف دکھائی دینے لگتی ہے۔ اس مطالعے کا حاصل یہ ہے کہ ہند مسلم مشترکہ تہذیب کا زوال کسی ایک واقعے کا مرہون منت نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے کئی سارے عناصر کار فرما تھے۔ خواہ وہ سیاسی بے بسی ہو یا معاشی بدحالی، انتظامی نااہلی ہو یا اپنوں کی بے وفائی سبھی عناصر مشترکہ ہند مسلم تہذیب کی شکست و ریخت میں پیش پیش رہے۔ 

زیر بحث ناول سے ایک سبق ہمیں یہ بھی ملتا ہے کہ تہذیبیں صرف عمارتوں، پہناوں یا پکوانوں سے زندہ نہیں رہتیں بلکہ وہ ان اقدار کے ساتھ زندہ رہتی ہیں جو سماج کے ہر طبقے کو ایک لڑی میں پروئے رکھیں۔ قاضی عبدالستار نے بکھری ہوئے تاریخی اوراق کو افسانوی رنگ دے کر ایک ایسی تصویر تیار کی ہے جس میں ہم اپنی ماضی کوتاہیوں کی جھلک دیکھ سکتے ہیں۔ غالب کا عہد دراصل وہ عہد تھا جہاں صدیوں سے قائم ایک تہذیب دم توڑ رہی تھی تو دوسری طرف نئی تہذیب جنم لے رہی تھی۔ تبدیلی کے اس عمل کے دوران جو کچھ ضائع ہوا وہ مشترکہ ہند مسلم تہذیب کا سرمایہ تھا۔ جس کی بازگشت آج بھی دلی کی ویران مسجدوں اور غالب کی غزلوں میں سنائی دیتی ہے۔ ہند مسلم تہذیب کا زوال صرف ایک سیاسی شکست نہیں تھی بلکہ ایک ایسا المیہ تھا جس کی تلافی شاید آج بھی ممکن نہیں۔

حوالہ جات

۔          احمد خان، ڈاکٹر،  “قاضی عبدالستار کے تاریخی ناول: ایک تنقیدی جائزہ”   مشمولہ: اردو ریسرچ

جرنل(آن لائن)                              https://www.urdulinks.com/urj/?p=2660

2۔       قاضی عبدالستار، غالب، بک کارنر، جہلم، 2021ء،  ص11

3۔       ایضاً، ص 132

4۔       رئیس احمد جعفری، بہادر شاہ ظفر اور ان کا عہد، کتاب منزل، لاہور، 1955ء،  ص688

5۔       قاضی عبدالستار، غالب، ایضاً، ص 134

6۔       رئیس احمد جعفری، بہادر شاہ ظفر اور ان کا عہد، ایضاً، ص688

7۔       قاضی عبدالستار، غالب، ایضاً، ص 139

8۔       شوکت علی فہمی، مفتی، ہندوستان پر مغلیہ حکومت، دین و دنیا پبلشنگ کمپنی، دہلی،  1949ء،  ص 395

9۔       قاضی عبدالستار، غالب، ایضاً، ص 137

10۔     ایضاً،ص 148

11۔     ایضاً، ص146    

12۔     رئیس احمد جعفری، بہادر شاہ ظفر اور ان کا عہد، ایضاً، ص1339

13۔     قاضی عبدالستار، غالب، ایضاً، ص149

Related posts

  • ناول “غالب” میں زوال پذیر ہند مسلم تہذیب کی عکاسی
    April 19, 2026

    ناول “غالب” میں زوال پذیر ہند مسلم تہذیب کی عکاسی

Address

H-13, Islamabad, Pakistan
Phone: +92-310-5357711
Email: atifofficial99@gmail.com

Stay Connected

Start your journey to confident Urdu — join our weekly newsletter.

Social Media

  • Instagram
  • LinkedIn
  • WhatsApp
  • Facebook
  • YouTube

WhatsApp us