میر تقی میر اردو غزل کے وہ درخشاں ستارے ہیں جنہیں تاریخِ ادب میں “خدائے سخن” کے عظیم لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی شاعری محض لفظوں کی بنت نہیں، بلکہ دلی احساسات و جذبات اور زندگی کے گہرے دکھ درد کی سچی تصویر ہے۔ ان کے کلام میں سادگی، بے ساختگی اور سوز و گداز کا وہ جادو ہے جو پڑھنے والے کے دل میں سیدھا اتر جاتا ہے۔ میر نے اپنے ذاتی غموں اور اپنے عہد کے دکھوں کو اس کمال ہنری سے یکجا کیا کہ پڑھنے والوں اس میں اپنی زندگی کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ ان کی فنی عظمت اور انفرادیت کا اعتراف مرزا غالب جیسے یگانہ روزگار شاعر نے بھی کچھ یوں کیا ہے
ریختے کے تمہی استاد نہیں ہو غالبؔ
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا