فاقہ میں روزہ

:تعارفی پیراگراف
خواجہ حسن نظامی کا شمار اردو ادب کے معروف نثر نگاروں میں ہوتا ہے۔انہوں نے بہت سے موضوعات پر قلم اٹھایا، لیکن 1857ء کی جنگِ آزادی اور مغل خاندان کی بربادی کے حوالے سے ان کی تحریریں بہت زیادہ مشہور ہوئیں۔ ان کا اسلوب تحریر سادہ، رواں اور پر اثر ہے۔ خواجہ صاحب کو مضمون نگاری میں خاص کمال حاصل تھا اور وہ روزمرہ کی عام چیزوں کو بھی اتنے دلچسپ انداز میں بیان کرتے تھے کہ پڑھنے والا ان کی تحریر میں کھو جاتا ہے۔ ان کی چند اہم اور مشہور کتابوں میں “بیگمات کے آنسو”، “سی پارہ دل” اور “غدر دہلی کے افسانے” شامل ہیں۔
سبق کا خلاصہ
سبق ’’فاقہ میں روزہ‘‘ خواجہ حسن نظامی کا تحریر کردہ ایک دردناک مرقع ہے جس میں جنگ آزادی ۱۸۵۷ء کے بعد مغل خاندان کی تباہ حالی اور ان کے عروج و زوال کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ غدر سے پہلے دہلی کی شان و شوکت اپنے عروج پر تھی۔ مرزا سلیم بہادر کے دور کا تذکرہ ہے کہ رمضان المبارک میں جامع مسجد کا نظارہ دیدنی ہوتا تھا۔ وہاں دینی مجالس، مراقبے اور وظائف کا دور چلتا، جبکہ شاہی محلات اور امراء کی جانب سے افطاری کے سینکڑوں خوان بھیجے جاتے۔ مسجد میں اس قدر کثرت سے کھانا تقسیم ہوتا تھا کہ شہر بھر کے محتاج سیر ہو کر کھاتے۔
جنگ آزادی کے بعد حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ دہلی اجڑ گئی، مغل شہزادے اور امراء تختہ دار پر لٹکا دیے گئے اور بیگمات محتاج ہو گئیں۔ مرزا سلیم کے بھانجے مرزا شہ زور اپنی دردناک آپ بیتی سناتے ہیں کہ جب دہلی پر انگریزوں کا قبضہ ہوا تو وہ اپنی بوڑھی والدہ، کمسن بہن اور حاملہ بیوی کو لے کر شہر سے نکلے۔ راستے میں گوجروں نے ان کا سب کچھ لوٹ لیا مگر جان بخشی کر دی۔ شاہجہاں اور تیمور کی نسل کی یہ شہزادیاں، جو کبھی محلات میں رہتی تھیں، بے یار و مددگار جنگلوں کی خاک چھاننے پر مجبور ہو گئیں۔
آخر کار اس لٹے پٹے قافلے نے ایک میواتی گاؤں میں پناہ لی۔ وہاں حالات نے اتنا مجبور کیا کہ تلوار چلانے والے شہزادے کو کھیتوں میں جانور اڑانے اور شہزادیوں کو گاؤں والوں کے کپڑے سینے کا کام کرنا پڑا۔ ایک رات شدید بارش اور سیلاب نے ان کی جھونپڑی اور سارا اناج تباہ کر دیا۔ اسی رات سردی اور بیماری کے باعث مرزا کی حاملہ بیوی شدید تڑپ کر انتقال کر گئی اور اسے اسی گاؤں میں دفنا دیا گیا۔
انہیں فاقوں اور مصیبتوں کے دوران رمضان کا مہینہ شروع ہو گیا۔ اناج سڑ جانے کی وجہ سے وہ کئی دن فاقہ میں روزہ رکھنے پر مجبور تھے۔ والدہ تہجد کے وقت رو رو کر اللہ سے فریاد کرتیں کہ کبھی ان کے دسترخوان سے سینکڑوں غریب پلتے تھے اور آج ان کی معصوم بچی دانے دانے کو محتاج ہے۔ ایک شام گاؤں کے چودھری نے نیاز کا کھانا اور زکوٰۃ کے پانچ روپے بھیجے۔ مرزا شہ زور تو اس پر خوش ہوئے لیکن ان کی غیرت مند والدہ یہ سن کر شدید رنجیدہ ہوئیں کہ مغلوں کی اولاد آج زکوٰۃ اور صدقہ خوری پر مجبور ہے۔ تاہم، سخت مجبوری کے تحت انہوں نے وہ کھانا کھا کر روزہ کھولا۔ کچھ عرصہ بعد یہ خاندان واپس دہلی آ گیا، جہاں والدہ انتقال کر گئیں، بہن کی شادی ہو گئی اور مرزا شہ زور انگریز سرکار کی پانچ روپے ماہوار پنشن پر اپنی بقیہ زندگی گزارنے لگے۔
:تشریحات
1: پیرگراف
مرزا نے اس صلاح کو پسند کیا اور دوسرے دن مصاحبوں کو لے کر جامع مسجد پہنچے۔ وہاں جاکر عجب عالم دیکھا۔ جگہ جگہ حلقہ بنائے لوگ بیٹھے ہیں۔ کہیں قرآن شریف کی دور ہو رہے ہیں۔ رات کے قرآن سنانے والے حفاظ آپس میں ایک دوسرے کو قرآن سنا رہے ہیں۔ کہیں مسائل دین پر گفتگو ہورہی ہے۔ دو عالم کسی فقہی مسئلہ پر بحث کرتے ہیں اور بیسیوں آدمی گرد میں بیٹھے مزے سے سن ر ہے ہیں۔ کسی جگہ توجہ اور مراقبہ کا حلقہ ہے۔ کہیں کوئی صاحب وظائف میں مشغول ہیں۔ الغرض مسجد میں چاروں طرف اللہ والوں کا ہجوم ہے۔
:تشریح
یہ عبارت سبق “فاقہ میں روزہ” سے لی گئی ہے جس میں مصنف خواجہ حسن نظامی لکھتے ہیں کہ مرزا سلیم بہادر نے جب اپنے ایک مصاحب یعنی قریبی دوست کے مشورے کو تسلیم کیا تو ان کی زندگی اور سوچ کے دھارے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔ سیاق و سباق کے حوالے سے دیکھا جائے تو مرزا سلیم جو کہ مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے بھائی تھے، قلعہ معلیٰ کی پرتعیش زندگی اور گانے بجانے کی محفلوں کے عادی تھے۔ رمضان المبارک کی آمد پر جب ان کی والدہ محترمہ نے محل میں موسیقی اور شور و غل پر پابندی عائد کر دی تاکہ عبادات میں خلل نہ پڑے، تو مرزا سلیم کو یہ پابندی بڑی گراں گزری۔ ان کا دل محل میں گھٹنے لگا اور وقت کاٹنا مشکل ہو گیا۔ اس بے چینی کے عالم میں ان کے ایک سمجھدار دوست نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ دل بہلانے کے لیے شام کے وقت دہلی کی تاریخی جامع مسجد کا رخ کیا کریں۔ یہ وہ دور تھا جب دہلی کی شان و شوکت عروج پر تھی اور جامع مسجد صرف ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ مسلمانوں کی تہذیب، ثقافت اور روحانیت کا سب سے بڑا مرکز تھی۔ مرزا سلیم اپنے دوستوں کے ہمراہ جب جامع مسجد کی سیڑھیاں چڑھ کر اس کے وسیع و عریض صحن میں داخل ہوئے تو وہاں کا سحر انگیز اور روحانی منظر دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ یہ منظر محل کی مصنوعی اور دنیاوی رنگینیوں سے یکسر مختلف تھا، جہاں ہر طرف خدا کی یاد اور دین کی سرگرمیاں عروج پر تھیں۔ اللہ کے گھر کی اس بے مثال رونق اور وہاں موجود ذکر و اذکار کی محفلوں کے حوالے سے قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
“ان گھروں میں جن کے بلند کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور جن میں اس کا نام یاد کیا جاتا ہے، (اہلِ ایمان) صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں۔” (سورۃ النور: 36)
مصنف منظر کشی کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ مسجد کے طول و عرض میں مسلمانوں کے مختلف گروہ حلقے بنائے بیٹھے تھے۔ رمضان کا مبارک مہینہ تھا، جس میں قرآن پاک کی تلاوت کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ مرزا سلیم نے دیکھا کہ جگہ جگہ حفاظ کرام کے حلقے سجے ہوئے ہیں۔ رات کی نمازِ تراویح میں قرآن سنانے والے حافظ صاحبان آپس میں ایک دوسرے کو قرآن سنا کر اپنا حفظ پختہ کر رہے تھے، جسے اصطلاح میں “قرآن کا دور کرنا” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک انتہائی خوبصورت اور پرنور منظر تھا جہاں ہر طرف سے تلاوتِ کلامِ پاک کی دل نشین صدائیں بلند ہو کر مسجد کے در و دیوار کو معطر کر رہی تھیں۔ یہ لوگ دنیاوی فکر سے بے نیاز ہو کر کلامِ الٰہی سے اپنے دلوں کو منور کر رہے تھے۔ ان حفاظ کا یہ عمل اس بات کی غمازی کرتا تھا کہ اس دور کے مسلمانوں کے دلوں میں قرآن مجید کی کس قدر محبت اور عقیدت رچی بسی ہوئی تھی۔ دہلی کی جامع مسجد کا یہ صحن اس وقت تلاوت کی گونج سے ایک ایسا سماں پیش کر رہا تھا جس نے مرزا سلیم کے دنیاوی تفریحات کے عادی دل پر گہرا روحانی اثر ڈالا۔ قرآن مجید کی تلاوت کے لیے مسجد میں جمع ہونے والوں کی اس فضیلت کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے
“جو قوم اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت کرتی ہے اور آپس میں اس کا درس لیتی ہے تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر اپنے پاس موجود فرشتوں میں کرتا ہے۔” (صحیح مسلم)
اس کے بعد مصنف فکری اور تہذیبی حوالے سے مسجد میں موجود ایک اور اہم سرگرمی کا ذکر کرتے ہیں جو دینی مسائل اور فقہی معاملات پر بحث و مباحثے سے متعلق تھی۔ مرزا سلیم کی نظر ایک اور حلقے پر پڑی جہاں دو جید علمائے کرام دین کے کسی پیچیدہ فقہی مسئلے پر علمی گفتگو فرما رہے تھے۔ ان علماء کے گرد بیسیوں عام مسلمان نہایت ادب، دلچسپی اور محویت کے ساتھ بیٹھے اس علمی بحث کو سن رہے تھے تاکہ ان کے دینی علم میں اضافہ ہو۔ یہ منظر دہلی کی تہذیبی اور فکری زرخیزی کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غدر (جنگ آزادی 1857ء) سے قبل مسلمان عوام میں دین سیکھنے کی کتنی تڑپ تھی۔ مسجدیں صرف رسمی عبادات تک محدود نہیں تھیں، بلکہ وہ علم و حکمت اور شعور و آگہی کی عظیم درس گاہیں تھیں۔ عام لوگوں کا اس قدر ذوق و شوق سے علماء کی محفل میں بیٹھنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس معاشرے میں علم اور اہل علم کی بے حد قدر و منزلت تھی۔ علمائے کرام دین کے احکامات کو دلائل کے ساتھ بیان کرتے، جس سے عوام الناس کے عقائد پختہ ہوتے اور ان کی عملی زندگی سنورتی تھی۔ علمائے کرام اور علم کی محفلوں کی اس عظمت کے حوالے سے قرآن مجید میں اہل علم کے اعلیٰ مقام کو یوں بیان کیا گیا ہے
“فرما دیجیے! کیا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو علم نہیں رکھتے، دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ یقیناً نصیحت تو وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔” (سورۃ الزمر: 9)
مصنف بات کو آگے بڑھاتے ہوئے روحانیت اور تصوف کے پہلو کو اجاگر کرتے ہیں۔ جہاں ایک طرف شریعت اور فقہ کے مسائل پر علمی دلائل دیے جا رہے تھے، وہیں دوسری طرف تزکیہ نفس اور باطنی صفائی کا بھی اہتمام تھا۔ مرزا سلیم نے دیکھا کہ مسجد کے کسی گوشے میں کچھ اللہ والے حضرات دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر ذکر و اذکار، وظائف اور مراقبے میں مشغول ہیں۔ مراقبہ اس روحانی کیفیت کا نام ہے جس میں انسان اپنی آنکھیں بند کر کے اپنے دل کی گہرائیوں میں اللہ کی ذات پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور اپنے رب سے لو لگاتا ہے۔ مصنف کہتے ہیں کہ غرض دہلی کی جامع مسجد میں چاروں طرف “اللہ والوں” کا ایک ہجوم تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے دلوں میں دنیا کی محبت کے بجائے خدا کی محبت رچی ہوئی تھی۔ مسجد کے اس پرسکون، نورانی اور روحانی ماحول نے مرزا سلیم کی سوچ کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ وہ محل جہاں ناچ گانے اور دنیاوی لہو و لعب کا غلبہ تھا، اس کے مقابلے میں مسجد کا یہ پاکیزہ ماحول ان کی روح کے لیے ایک نیا اور فرحت بخش تجربہ ثابت ہوا۔ انہیں محسوس ہوا کہ حقیقی خوشی اور سکون موسیقی کے شور میں نہیں، بلکہ خدا کی یاد اور نیک لوگوں کی صحبت میں ہے۔ ذکرِ الٰہی سے حاصل ہونے والے اس بے پناہ قلبی سکون کے حوالے سے قرآن مجید میں نہایت واضح ارشاد ہوتا ہے
“خبردار! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔” (سورۃ الرعد: 28)
فکری حوالے سے اگر اس عبارت کا گہرائی میں جائزہ لیا جائے تو خواجہ حسن نظامی محض ایک مسجد کا منظر نہیں دکھا رہے، بلکہ وہ اس شاندار اسلامی تہذیب کا نوحہ لکھ رہے ہیں جو 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد ہمیشہ کے لیے مٹ گئی۔ مصنف طلبہ اور قارئین کو یہ احساس دلانا چاہتے ہیں کہ جب تک مسلمانوں کا تعلق قرآن، علمائے کرام، مساجد اور اللہ کے ذکر سے جڑا رہا، ان میں زندگی کی حرارت، شان و شوکت اور روحانی بلندی باقی رہی۔ دہلی محض عمارتوں کا نام نہیں تھا، بلکہ ان اللہ والوں، علماء اور حفاظ کی وجہ سے “ہندوستان کا دل” کہلاتا تھا۔ مصنف نے مرزا سلیم کی ذہنی تبدیلی کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ انسان فطرتاً نیکی اور سکون کی طرف مائل ہوتا ہے، بس اسے صحیح ماحول اور صحبت ملنی چاہیے۔ یہ عبارت طلبہ کے لیے ایک سبق ہے کہ وہ اپنے شاندار ماضی اور اسلاف کی روایات کو پہچانیں اور دنیاوی خرافات میں الجھنے کے بجائے اپنے اندر دینی اور علمی شعور بیدار کریں۔ سچی خوشی اور روحانیت دراصل اللہ کے نیک بندوں کی سنگت ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ اس پرسکون اور روحانی صحبت کے اثرات کی عکاسی مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کے اس مشہور فارسی قول (شعر) میں نہایت عمدگی سے کی گئی ہے
صحبتِ صالح ترا صالح کند
صحبتِ طالح ترا طالح کند
(یعنی: نیک شخص کی صحبت تجھے بھی نیک بنا دیتی ہے، جبکہ برے انسان کی صحبت تجھے برا بنا دیتی ہے۔)
مجموعی طور پر اس عبارت میں خواجہ حسن نظامی نے جنگ آزادی 1857ء سے قبل کی دہلی اور رمضان المبارک میں جامع مسجد کی شاندار روحانی اور علمی فضا کی انتہائی جاندار منظر کشی کی ہے۔ مصنف نے نہایت مہارت سے مرزا سلیم کے واقعے کے ذریعے یہ واضح کیا ہے کہ کس طرح مساجد کا پاکیزہ ماحول، قرآن مجید کی تلاوت، علماء کی فکری مجالس اور صوفیاء کے ذکر و مراقبے انسان کے دل و دماغ پر گہرا اثر مرتب کرتے ہیں۔ یہ اقتباس درحقیقت مسلمانوں کے اس شاندار تہذیبی اور روحانی عروج کی یادگار ہے، جب مساجد مسلمانوں کی علمی، عملی اور روحانی تربیت کی حقیقی آماجگاہیں ہوا کرتی تھیں اور یہی وہ اثاثہ ہے جو آج کی نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
2:پیرا گراف
جب انگریزی توپوں نے، کرچوں اور سنگینوں نے، حکیمانہ توڑ جوڑ نے ہمارے ہاتھ سے تلوار چھین لی، تاج سر سے اتار لیا، تخت پر قبضہ کر لیا، شہر میں آتش ناک گولیوں کا مینہ برس چکا، سات پردوں میں رہنے والیاں بے چادر ہوکر بازار میں اپنے وارثوں کی تڑپتی ہوئی لاشوں کو دیکھنے نکل آئیں، چھوٹے بن باپ کے بچے ابا ابا پکارتے ہوئے بے یار و مدد گار پھرنے لگے، حضور ظل سبحانی جن پر ہم سب کا سہارا تھا، قلعہ چھوڑ کر باہر نکل گئے، اس وقت میں نے بھی اپنی بوڑھی والدہ، کمسن بہن اور حاملہ بیوی کو ساتھ لے کر اور اجڑے قافلے کا سالار بن کر گھر سے کوچ کیا۔
:تشریح
تشریح طلب عبارت میں مصنف خواجہ حسن نظامی لکھتے ہیں کہ جنگِ آزادی ۱۸۵۷ء کے ہنگاموں نے دہلی اور مغل سلطنت کو کس طرح ایک خوفناک اور دردناک انجام سے دوچار کیا۔ سیاق و سباق کے لحاظ سے یہ اس سبق کا وہ حصہ ہے جہاں مرزا سلیم بہادر کے بھانجے، مرزا شہ زور، اپنی گزری ہوئی زندگی کی دردناک آپ بیتی سنا رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب ہندوستان پر انگریزوں کا مکمل قبضہ ہو گیا تو مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ مصنف اس اقتباس میں نہایت دل سوز انداز میں بتاتے ہیں کہ انگریزوں نے صرف اپنی فوجی طاقت، جدید ہتھیاروں، توپوں، بندوقوں کی سنگینوں اور کرچوں (تیز دھار خنجروں) ہی سے مسلمانوں کو شکست نہیں دی، بلکہ ان کی سازشوں اور چالاکیوں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس حکیمانہ توڑ جوڑ یعنی مکاری اور سیاسی چالوں نے مسلمانوں کے ہاتھوں سے ان کی طاقت ور تلوار چھین لی۔ صدیوں پر محیط مغلوں کی عظیم الشان سلطنت کا سورج غروب ہو گیا، بادشاہ کے سر سے تاج اتار لیا گیا اور ہندوستان کے تخت پر انگریز قابض ہو گئے۔ یہ عروج و زوال دنیا کا ایک ایسا کڑوا سچ ہے جو انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ دنیاوی طاقت اور حکومت کبھی کسی کے پاس ہمیشہ نہیں رہتی۔ دنیا کی اس بے ثباتی اور طاقت و حکومت کے چھن جانے کے حوالے سے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا نہایت واضح ارشاد ہے
“کہہ دیجیے! اے اللہ، بادشاہی کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے، اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کر دے، ساری بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ یقیناً تو ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔” (سورۃ آل عمران: 26)
مصنف بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ۱۸۵۷ء کے دوران دہلی کے گلی کوچوں میں ہونے والے قتلِ عام کا دل دہلا دینے والا منظر پیش کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب شہر میں انگریزی فوج داخل ہوئی تو ہر طرف آگ اور خون کا کھیل شروع ہو گیا۔ معصوم اور نہتے شہریوں پر گولیوں کی ایسی بارش کی گئی جیسے آسمان سے مینہ برس رہا ہو۔ اس قتل و غارت کا سب سے دردناک پہلو یہ تھا کہ وہ عزت مآب خواتین، جو ساری زندگی محلات کے سات پردوں میں چھپ کر رہتی تھیں اور جنہیں کبھی سورج کی کرنوں نے بھی براہِ راست نہیں دیکھا تھا، وہ بے چادر اور ننگے سر بازاروں میں نکلنے پر مجبور ہو گئیں۔ ان کے گھروں کے مرد، ان کے محافظ اور وارث بے دردی سے شہید کر دیے گئے تھے اور وہ ان کی تڑپتی ہوئی لاشوں کو دیکھنے کے لیے سڑکوں پر ماری ماری پھر رہی تھیں۔ ان کی عزتیں اور ان کا وقار سب خاک میں مل چکا تھا۔ تاریخ کا یہ وہ سیاہ باب ہے جب انسانیت سسک رہی تھی اور دہلی کا ہر گوشہ ماتم کدہ بن چکا تھا۔اس اجڑے ہوئے شہر اور لٹتی ہوئی عزتوں کے اس دردناک منظر کی ترجمانی مغلوں کے آخری تاجدار، بہادر شاہ ظفر کے اس مشہور شعر میں کچھ یوں ملتی ہے:ے
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں
اس المناک منظر کشی میں مصنف ان چھوٹے اور معصوم بچوں کا ذکر بھی کرتے ہیں جن کے باپ اس خون ریزی میں شہید کر دیے گئے تھے۔ وہ معصوم بچے، جنہیں ابھی دنیا کے حالات کی کوئی سمجھ نہیں تھی، گلیوں میں “ابا ابا” پکارتے ہوئے رو رہے تھے۔ ان کا کوئی سہارا، کوئی مددگار اور کوئی آنسو پونچھنے والا باقی نہیں رہا تھا۔ ان حالات میں دہلی کے شہریوں کی آخری امید ان کا بادشاہ، بہادر شاہ ظفر تھا جسے وہ عقیدت سے “ظلِ سبحانی” (یعنی زمین پر اللہ کا سایہ) کہہ کر پکارتے تھے۔ لیکن حالات کا جبر دیکھیے کہ وہ بادشاہ، جس پر لاکھوں انسانوں کا سہارا تھا، خود بے بس ہو کر اپنے آبائی قلعے کو چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔ بادشاہ کا لال قلعہ چھوڑ کر جانا دراصل مسلمانوں کی صدیوں پرانی تاریخ، تہذیب اور شان و شوکت کے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جانے کا اعلان تھا۔ بادشاہ کے شہر سے نکلتے ہی عوام کے دلوں سے آخری امید بھی ٹوٹ گئی اور ہر شخص اپنی جان بچانے کی فکر میں پڑ گیا۔ انسان پر آنے والی ان سخت اور کٹھن آزمائشوں کے حوالے سے قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
“اور ہم یقیناً تمہیں تھوڑے سے خوف، بھوک اور مالوں، جانوں اور پھلوں کے نقصان سے آزمائیں گے، اور (اے پیغمبر) صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے۔” (سورۃ البقرہ: 155)
اس عالمِ مایوسی اور تباہی میں مرزا شہ زور اپنی ذاتی حالت بیان کرتے ہیں کہ جب بادشاہ سلامت خود قلعہ چھوڑ گئے تو ان کے پاس بھی شہر چھوڑنے کے سوا کوئی راستہ نہ بچا تھا۔ وہ ایک شہزادے سے اچانک ایک بے گھر اور لٹے پٹے انسان میں تبدیل ہو چکے تھے۔ انہوں نے اس پر آشوب وقت میں اپنی بوڑھی اور کمزور والدہ، اپنی چھوٹی اور نادان بہن اور اپنی حاملہ بیوی کو ساتھ لیا اور دہلی سے باہر کی طرف کوچ کیا۔ مرزا شہ زور اس اجڑے ہوئے اور لٹے پٹے قافلے کے سالار یعنی رہنما تھے۔ کل تک جو شخص محلات میں نوکروں اور خادموں کے جھرمٹ میں رہتا تھا، آج وہ اس ہولناک جنگل میں تین بے بس اور کمزور عورتوں کا تنہا محافظ تھا۔ یہ اس خاندان کا نوحہ ہے جس نے صدیوں تک ہندوستان پر حکومت کی مگر گردشِ ایام نے انہیں اپنے ہی ملک میں پناہ گزین اور مہاجر بنا دیا۔ مسلمانوں کے اس شاندار ماضی کے چھن جانے اور ایک عظیم قافلے کے یوں لٹ جانے پر علامہ محمد اقبال کا یہ شعر اس کیفیت کی نہایت شاندار عکاسی کرتا ہے:
وائے ناکامی! متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو خواجہ حسن نظامی، جنہیں اردو ادب میں “مصورِ فطرت” اور “مصورِ غم” کہا جاتا ہے، نے اس پیراگراف میں محض ایک تاریخی واقعہ بیان نہیں کیا، بلکہ انسانی ہمدردی، درد اور تاریخ کا ایک گہرا فلسفہ پیش کیا ہے۔ وہ بتانا چاہتے ہیں کہ جب قومیں اپنی طاقت اور اپنا وقار کھو دیتی ہیں تو ان کا انجام کتنا عبرت ناک ہوتا ہے۔ غیروں کی غلامی کس طرح انسان سے اس کی عزت، اس کا گھر اور اس کے پیارے چھین لیتی ہے۔ مصنف نے مرزا شہ زور کی زبانی یہ دکھ بھری داستان اس لیے قلم بند کی ہے تاکہ آنے والی نسلیں، خاص طور پر نوجوان طالب علم، تاریخ کے اس تلخ باب سے سبق سیکھیں۔ وہ جان سکیں کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے اور جب کوئی قوم سازشوں کا شکار ہو کر کمزور پڑتی ہے تو اس کے بچوں اور عورتوں کو کیسی کیسی اذیتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ یہ عبارت دراصل مسلمانوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ دنیاوی شان و شوکت اور محلات کی زندگی ناپائیدار ہے، اصل چیز اپنے ایمان، اپنی غیرت اور اپنی آزادی کی حفاظت کرنا ہے۔
3:پیرا گراف
مرزا سلیم کے ایک بھانجے مرزاشہ زور نو عمری کے سبب اکثر اپنے ماموں کی صحبت میں بے تکلف شریک ہوا کرتے تھے۔ ان کا بیان ہے کہ ایک تو وہ وقت تھا جو آج خواب و خیال کی طرح یاد آتا ہے اور ایک وہ وقت آیا کہ دہلی زیر وزبر ہو گئی۔ قلعہ بر باد کر دیا گیا۔ امیروں کو پھانسیاں مل گئیں۔ ان کے گھر اکھڑ گئے۔ ان کی بیگمات ماما گیری کرنے لگیں اور مسلمانوں کی سب شان و شوکت تاراج ہو گئی۔
:تشریح
تشریح طلب عبارت میں مصنف نے جنگ آزادی ۱۸۵۷ء کے بعد مغلیہ سلطنت کے زوال اور مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا نہایت دلسوز اور رلا دینے والا نقشہ کھینچا ہے۔ سیاق و سباق کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ وہ مقام ہے جہاں مغل شہزادے مرزا سلیم بہادر کے بھانجے، مرزا شہ زور، اپنی گزری ہوئی زندگی کے عروج و زوال کی داستان سنا رہے ہیں۔۔ مرزا شہ زور اس دور کی یاد تازہ کرتے ہیں جب دہلی اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ آباد تھی اور لال قلعہ مسلمانوں کی تہذیب، طاقت اور ثقافت کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ چونکہ مرزا شہ زور اس وقت نوعمر اور کمسن تھے، اس لیے وہ اکثر اپنے ماموں مرزا سلیم کی محفلوں میں بغیر کسی روک ٹوک اور بے تکلفی کے شریک ہوا کرتے تھے۔ ان محفلوں میں زندگی کی ہر آسائش، خوشی اور تفریح میسر تھی۔ قلعے کی وہ پرتعیش زندگی انسان کو یہ سوچنے ہی نہیں دیتی تھی کہ کبھی اس تخت و تاج پر زوال بھی آ سکتا ہے۔ لیکن جب وقت نے کروٹ لی اور حالات بدلے تو وہ شاندار ماضی مرزا شہ زور کو محض ایک خواب لگنے لگا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایک تو وہ وقت تھا جو اب صرف یادوں کے دریچوں میں ایک حسین خواب کی طرح محفوظ رہ گیا ہے جس پر آج یقین کرنا بھی مشکل معلوم ہوتا ہے۔ دنیا کی اس بے ثباتی اور عروج کے بعد آنے والے زوال کے حوالے سے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے
“اور یہ (عروج و زوال کے) دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان باری باری پھیرتے رہتے ہیں۔” (سورۃ آل عمران: 140)
مرزا شہ زور اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے اس دوسرے اور انتہائی بھیانک وقت کا ذکر کرتے ہیں جس نے ان کی اور پورے برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ وہ بتاتے ہیں کہ پھر ایک ایسا برا وقت آیا کہ دہلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ “دہلی زیر و زبر ہو گئی” کے الفاظ میں ایک پوری تاریخ پوشیدہ ہے۔ زیر و زبر ہونے کا مطلب ہے سب کچھ الٹ پلٹ ہو جانا، تباہ و برباد ہو جانا۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں جب انگریزوں نے دہلی پر قبضہ کیا تو انہوں نے اس شہر کو انتقام کا نشانہ بنایا۔ وہ شہر جو کبھی ہندوستان کا دل کہلاتا تھا، جہاں علم، ہنر اور تہذیب کے چشمے پھوٹتے تھے، اسے خاک و خون میں نہلا دیا گیا۔ لال قلعہ، جو صدیوں سے مسلمانوں کی شان و شوکت اور حکمرانی کی علامت تھا، اسے بے دردی سے برباد کر دیا گیا۔ اس قلعے کے در و دیوار نے وہ ہولناک مناظر دیکھے جن کے تصور سے آج بھی روح کانپ اٹھتی ہے۔ شہر کی اس دلخراش تباہی اور ویرانی کی عکاسی اس مشہور شعر میں نہایت دردناک انداز میں کی گئی ہے
اس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا
ہم رہنے والے ہیں اس اجڑے دیار کے
مصنف بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اس ظلم و ستم کا ذکر کرتے ہیں جو خاص طور پر مسلمانوں کے معززین اور امراء پر ڈھایا گیا۔ مرزا شہ زور بتاتے ہیں کہ قلعے کی بربادی کے بعد انگریزوں نے چن چن کر مسلمانوں کے امیروں، نوابوں، سرداروں اور شہزادوں کو گرفتار کیا اور انہیں سرِ عام پھانسیاں دے دیں۔ ان پھانسیوں کا مقصد صرف جان لینا نہیں تھا، بلکہ مسلمانوں کے دلوں میں ایسا خوف بٹھانا تھا کہ وہ دوبارہ کبھی آزادی کا نام نہ لے سکیں۔ دہلی کا مشہور خونی دروازہ اس ظلم کی زندہ گواہ ہے۔ ان امراء کے عالی شان گھر، حویلیاں اور محلات ڈھا دیے گئے۔ “گھر اکھڑ گئے” سے مراد یہ ہے کہ ان کے خاندانوں کا شیرازہ بکھر گیا۔ جن گھروں میں کبھی خوشحالی اور امن کا دور دورہ تھا، وہاں الو بولنے لگے۔ انسان کی دنیاوی طاقت کے اس عبرت ناک انجام اور بے بسی پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ نہایت بصیرت افروز قول ہمارے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے
“دنیا کی بے ثباتی کے لیے یہی کافی ہے کہ یہ کسی ایک حال پر قائم نہیں رہتی۔”
اس عبارت کا سب سے دلسوز اور تکلیف دہ حصہ وہ ہے جہاں مرزا شہ زور مغل شاہی خاندان کی مستورات اور بیگمات کا تذکرہ کرتے ہیں۔ مصنف لکھتے ہیں کہ “ان کی بیگمات ماما گیری کرنے لگیں۔” یہ وہ شہزادیاں اور نواب زادیاں تھیں جنہوں نے زندگی بھر ریشم اور کمخواب کے لباس پہنے تھے، جن کے قدم کبھی ننگی زمین پر نہیں پڑے تھے، اور جن کی خدمت کے لیے ہر وقت سینکڑوں کنیزیں اور خادمائیں ہاتھ باندھے کھڑی رہتی تھیں۔ لیکن جب گردشِ ایام نے انہیں تخت سے تختے پر لا کھڑا کیا تو ان کے مردوں کو قتل کر دیا گیا اور ان کا سارا مال و اسباب لوٹ لیا گیا۔ فاقوں اور بھوک سے مجبور ہو کر ان باعزت خواتین کو اپنے یتیم بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے غیروں کے گھروں میں ماما گیری یعنی جھاڑو پونچا لگانے اور برتن دھونے جیسے محنت مزدوری کے کام کرنے پڑے۔ وقت کی اس ظالمانہ کروٹ اور شاہی خاندان کی ان شہزادیوں کی اس دربدری کو دیکھ کر بے اختیار یہ شعر یاد آتا ہے جس میں تخت و تاج کے چھن جانے کا نوحہ بیان کیا گیا ہے
دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انھیں
تھا کل تلک دماغ جنھیں تاج و تخت کا
ان شہزادیوں کی اس بے بسی، دکھ اور غم کو الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ ان کے پاس نہ چھپنے کا کوئی ٹھکانہ رہا اور نہ ہی رونے کے لیے کوئی کاندھا۔ ان کے دلوں پر جو قیامت گزری، اس نے ان کی زندگی کی تمام بہاروں کو خزاں میں بدل دیا۔ ان کے پاس اپنے شاندار ماضی کو یاد کر کے رونے کے سوا کچھ نہ بچا تھا۔ اس شدید ذہنی اور قلبی اذیت، اور گزرے ہوئے شاندار ماضی کی یادوں کی کسک کو اس شعر میں بہت ہی خوبصورتی سے پرویا گیا ہے:
اب دل ہے نہ مقام ہے کسی کا
یوں گھر نہ تباہ ہو کسی کا
روتا ہے اب نصیب خوشی کا
ماتم ہے بہار زندگی کا
عبارت کے آخر میں مصنف ایک انتہائی جامع اور معنی خیز جملہ تحریر کرتے ہیں کہ “اور مسلمانوں کی سب شان و شوکت تاراج ہو گئی۔” یہ محض ایک خاندان یا ایک بادشاہ کے زوال کی داستان نہیں تھی، بلکہ یہ برصغیر میں مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ حکمرانی، ان کی تہذیب، ثقافت اور عالمی وقار کے ہمیشہ کے لیے دفن ہو جانے کا اعلان تھا۔ وہ مسلمان جن کی تلوار کی دھاک سے دنیا کانپتی تھی، جن کے عدل و انصاف کی مثالیں دی جاتی تھیں، وہ اپنوں کی سازشوں اور وقت کی بے رحمی کا ایسا شکار ہوئے کہ ان کا نام و نشان مٹانے کی کوشش کی گئی۔ تاراج ہونے کا مطلب ہے جڑوں سے اکھڑ جانا اور مکمل طور پر لٹ جانا۔ یہ زوال اس بات کی گواہی تھا کہ جب قومیں اپنا کردار اور اللہ سے اپنا تعلق کمزور کر لیتی ہیں تو دنیا کی کوئی دولت، کوئی قلعہ اور کوئی بڑی سے بڑی فوج انہیں زوال سے نہیں بچا سکتی۔ مسلمانوں کی اس مٹتی ہوئی شان و شوکت اور نامور لوگوں کے اس طرح خاک میں مل جانے پر تاریخ ہمیشہ آنسو بہاتی رہے گی۔ اس تاریخی زوال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اردو کے ایک نامور شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
خواجہ حسن نظامی اس عبارت کے ذریعے دراصل نئی نسل اور خاص طور پر طلبہ کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ تاریخ کے اس اندوہناک باب سے عبرت حاصل کریں۔ اقتباس کا ایک ایک لفظ انسان کو دنیا کی بے ثباتی کا احساس دلاتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کو کبھی اپنے مال، دولت، طاقت اور حکمرانی پر غرور نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ جب اللہ کی طرف سے آزمائش کا وقت آتا ہے تو بادشاہوں کو بھی فقیر بننے میں دیر نہیں لگتی۔ اصل کامیابی اور بقا مادی چیزوں میں نہیں بلکہ انسان کے نیک کردار، اس کی خودداری اور اللہ پر اس کے پختہ ایمان میں پوشیدہ ہے۔
مجموعی طور پر اس پردرد اور سبق آموز عبارت میں خواجہ حسن نظامی نے جنگ آزادی ۱۸۵۷ء کے المیے کو نہایت جاندار اور دلگیر انداز میں پیش کیا ہے۔ مرزا شہ زور کی زبانی بیان کی گئی یہ داستان نہ صرف قلعہ معلیٰ کی تباہی اور امراء کی بربادی کا نوحہ ہے، بلکہ یہ مغلیہ بیگمات کی بے بسی اور مسلمانوں کی مجموعی شان و شوکت کے زوال کی ایک ایسی عبرت ناک دستاویز ہے جو پڑھنے والے کے دل کو آج بھی غم و اندوہ سے بھر دیتی ہے۔ مصنف کا اندازِ بیاں اتنا مؤثر ہے کہ قاری خود کو اسی اجڑے ہوئے دور میں کھڑا محسوس کرتا ہے اور تاریخ کا یہ سبق ہمیشہ کے لیے اس کے ذہن پر نقش ہو جاتا ہے۔
4:پیراگراف
اب ہم کو کھانے کی فکر ہوئی، کیوں کہ اناج سب بھیگ کر سڑ گیا تھا۔ گاؤں والوں سے بھی مانگتے ہوئے لحاظ آتا تھا۔ وہ بھی ہماری طرح اس مصیبت میں گرفتار تھے۔ تا ہم بچارے گاؤں کے چودھری کو خود ہی خیال ہوا اور اس نے قطب صاحب سے ایک روپے کا آٹا منگوا دیا۔ وہ آٹا نصف کے قریب خرچ ہوا ہوگا کہ رمضان شریف کا چاند نظر آیا۔ والدہ صاحبہ کا دل بہت نازک تھا۔ وہ ہر وقت گذشتہ زمانے کو یاد کیا کرتی تھیں۔ رمضان کا چاند دیکھ کر انہوں نے ایک ٹھنڈا سانس بھرا اور چپ ہوگئیں۔ میں سمجھ گیا کہ ان کو پچھلا زمانہ یاد آ رہا ہے۔ تسلی کی باتیں کرنے لگا، جس سے ان کو کچھ ڈھارس ہوگئی۔
:تشریح
زیر بحث عبارت میں خواجہ حسن نظامی لکھتے ہیں کہ جنگِ آزادی ۱۸۵۷ء کے بعد مغل شاہی خاندان پر مصیبتوں کے ایسے پہاڑ ٹوٹے جن کا تصور بھی انسان کے رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔ دلی سے نکل جانے کے بعد مرزا سلیم بہادر کے بھانجے، مرزا شہ زور، ایک گاؤں میں پناہ لیتے ہیں۔ جہاں ان پر مصیبتوں کا یہ عالم ہے کہ ایک رات شدید بارش اور طوفان نے گاؤں میں سیلاب کی کیفیت پیدا کر دی، جس کے نتیجے میں سردی اور بیماری کے باعث مرزا شہ زور کی حاملہ بیوی انتہائی بے بسی کی حالت میں دم توڑ گئی۔ بیوی کو دفنانے کے بعد جب صبح ہوئی تو زندگی کی ایک اور کٹھن حقیقت نے ان کا دروازہ کھٹکھٹایا، اور وہ حقیقت بھوک تھی۔ مصنف بتاتے ہیں کہ سیلاب کے پانی کی وجہ سے ان کا سارا اناج اور کھانے پینے کا سامان بھیگ کر گل سڑ گیا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو کبھی محلوں میں شاہی دسترخوانوں پر طرح طرح کے نفیس کھانے کھایا کرتے تھے، مگر آج قدرت نے انہیں دانے دانے کا محتاج کر دیا تھا۔ لیکن دوسری طرف انسان پر آنے والی اس بھوک اور خوف کی آزمائش کے حوالے سے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا نہایت واضح ارشاد ہے
“اور ہم یقیناً تمہیں تھوڑے سے خوف، بھوک اور مالوں، جانوں اور پھلوں کے نقصان سے آزمائیں گے، اور (اے پیغمبر) صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے۔” (سورۃ البقرہ: 155)
اناج خراب ہو جانے کے بعد ان کے پاس کھانے کو کچھ نہ بچا تھا۔ مرزا شہ زور کی غیرت اور خاندانی وقار اس بات کی اجازت نہیں دیتا تھا کہ وہ گاؤں والوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔ وہ اس بات کو اچھی طرح محسوس کر رہے تھے کہ سیلاب اور طوفان کی وجہ سے گاؤں والے بھی اسی مصیبت اور پریشانی کا شکار ہیں جس میں وہ خود مبتلا ہیں۔ ایسے میں کسی سے کچھ مانگنا ان کی خاندانی روایات کے بالکل خلاف تھا۔ مغل شہزادے ہونے کے ناطے ان کی تربیت میں یہ بات شامل تھی کہ وہ ہمیشہ دینے والے رہے تھے، مانگنے والے نہیں۔ ان کی اس خودداری اور مانگنے سے ہچکچاہٹ کی ترجمانی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس مشہور اور خوبصورت حدیث سے بخوبی ہوتی ہے
“اوپر والا ہاتھ (یعنی دینے والا) نیچے والے ہاتھ (یعنی مانگنے والے) سے بہتر ہے۔” (صحیح بخاری)
اپنی اسی غیرت اور خودداری کی وجہ سے وہ خاموشی سے بھوک برداشت کرتے رہے۔ تاہم، دردِ دل رکھنے والے انسان ہر معاشرے میں موجود ہوتے ہیں۔ مصنف لکھتے ہیں کہ گاؤں کا چودھری، جو اگرچہ خود بھی غریب اور آفت کا مارا ہوا تھا، اس نے ان بے بس اور لٹے پٹے مہمانوں کی مجبوری کو محسوس کر لیا۔ اس نے ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قریبی علاقے قطب صاحب سے ایک روپے کا آٹا منگوا کر ان کی خدمت میں پیش کیا۔ یہ ایک روپے کا آٹا اس شاہی خاندان کے لیے اس وقت کسی بہت بڑی نعمت اور خزانے سے کم نہ تھا۔ گاؤں کے چودھری کا یہ عمل انسانیت کی ایک بہت بڑی مثال ہے، کیونکہ مشکل وقت میں کسی ضرورت مند کے کام آنا اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے۔ دوسروں کے دکھ درد کو سمجھنے اور ان کی مدد کرنے کے حوالے سے حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے
“جو شخص اس دنیا میں کسی مسلمان کی کوئی تکلیف دور کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور فرمائے گا۔” (صحیح مسلم)
یہ خاندان اس آٹے سے بمشکل اپنا گزارہ کر رہا تھا۔ ابھی وہ آٹا نصف کے قریب ہی خرچ ہوا تھا کہ آسمان پر رمضان المبارک کا چاند نظر آ گیا۔ عام طور پر رمضان کا چاند دیکھ کر مسلمانوں کے دل خوشی اور ایمان کی حلاوت سے بھر جاتے ہیں، مگر اس لٹے پٹے خاندان کے لیے یہ چاند خوشی کے بجائے ماضی کی بے شمار دکھ بھری یادیں لے کر آیا۔ مرزا شہ زور کی والدہ، جو مغل خاندان کی ایک معزز اور حساس خاتون تھیں، ان کا دل پہلے ہی غموں سے چور تھا۔ جب انہوں نے رمضان کا چاند دیکھا تو ان کے منہ سے بے اختیار ایک آہ نکلی اور انہوں نے ایک ٹھنڈا سانس بھرا۔ وہ بالکل خاموش ہو گئیں۔ ان کی اس خاموشی میں صدیوں کی داستان اور محلات کی بربادی کا نوحہ چھپا ہوا تھا۔ وہ اس وقت اس دور کو یاد کر رہی تھیں جب لال قلعہ میں رمضان کی آمد پر کیسی شاندار تیاریاں ہوتی تھیں۔ سحری اور افطاری کے دسترخوان سجائے جاتے تھے، غریبوں میں سینکڑوں خوان (کھانے کے تھال) تقسیم کیے جاتے تھے، اور پورا قلعہ خدا کی یاد اور رونق سے جگمگا اٹھتا تھا۔ اور آج یہ عالم تھا کہ ان کے پاس خود سحری اور افطاری کے لیے چند لقمے بھی مشکل سے دستیاب تھے۔ دنیا کی اس بے ثباتی اور وقت کے اس ظالمانہ تغیر کے حوالے سے قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
“اور یہ (عروج و زوال کے) دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان باری باری پھیرتے رہتے ہیں۔” (سورۃ آل عمران: 140)
والدہ کی یہ کیفیت اس بات کا ثبوت تھی کہ انسان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن گزرے ہوئے شاندار دنوں کی یاد اسے اندر سے توڑ دیتی ہے۔ انسان جب اپنے عروج کے دنوں کو زوال کی حالت میں یاد کرتا ہے تو اس کا دکھ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ ان کے پاس اپنے دکھوں کا مداوا کرنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ وہ صرف اپنی یادوں کے سہارے آنسو بہا سکتی تھیں۔ ان کی اس شدید ذہنی اور قلبی اذیت، اور گزرے ہوئے شاندار ماضی کی یادوں کی کسک کو اردو کے ایک مشہور شعر میں نہایت خوبصورتی سے یوں بیان کیا گیا ہے
یادِ ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
مرزا شہ زور اپنی والدہ کی اس خاموشی اور ٹھنڈی آہ کا مطلب بخوبی سمجھ گئے۔ وہ جانتے تھے کہ ان کی والدہ کو قلعے کے وہ پرانے اور خوشحال دن یاد آ رہے ہیں جب وہ شہزادیاں تھیں اور آج وہ ایک ٹوٹی ہوئی جھونپڑی میں فاقوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ ایک اچھے اور فرماں بردار بیٹے کی طرح مرزا شہ زور نے اپنی والدہ کو دلاسہ دیا۔ انہوں نے محبت اور ہمدردی سے تسلی کی باتیں شروع کیں تاکہ والدہ کا دھیان بٹ سکے اور ان کا غم کچھ کم ہو۔ مرزا شہ زور نے انہیں سمجھایا ہوگا کہ یہ دنیا فانی ہے اور اللہ کی طرف سے آنے والی ہر آزمائش پر صبر کرنا ہی مومن کا شیوہ ہے۔ ان کی تسلی اور محبت بھری باتوں سے والدہ کو کچھ ڈھارس ملی اور ان کے بے چین دل کو تھوڑا سکون حاصل ہوا۔ مصیبت کے وقت ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرنا اور اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھنا ہی انسان کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔ مشکل ترین حالات میں صبر کرنے اور حوصلہ نہ ہارنے کے حوالے سے قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا نہایت خوبصورت وعدہ موجود ہے:
“اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے مدد چاہو، بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔” (سورۃ البقرہ: 153)
انسان جب صبر کا دامن تھام لیتا ہے تو بڑی سے بڑی مشکل بھی کٹ ہی جاتی ہے۔ مرزا شہ زور کی تسلی نے ان کی والدہ کے زخموں پر مرہم کا کام کیا اور انہیں یہ احساس دلایا کہ اگرچہ ان سے ان کا تخت و تاج چھن گیا ہے، لیکن اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اپنوں کی ہمدردی اور میٹھے بول انسان کے بڑے سے بڑے دکھ کو ہلکا کر دیتے ہیں۔ اسی کیفیت کو ایک شاعر نے بڑے سلیس اور عمدہ انداز میں یوں بیان کیا ہے
صبر کر بندے! مصیبت کے دن گزر جائیں گے
ہنسی اڑانے والوں کے چہرے اتر جائیں گے
مجموعی طور پر اس عبارت میں خواجہ حسن نظامی نے گردشِ ایام کے اس کڑوے سچ کو بے نقاب کیا ہے کہ جب وقت بدلتا ہے تو شاہی محلات میں پلنے والے کس طرح دانے دانے کو محتاج ہو جاتے ہیں۔ مصنف نے نہایت مہارت سے بھوک، خاندانی وقار، انسانی ہمدردی اور ماضی کی یادوں کی کسک کا ایک دلگیر نقشہ کھینچا ہے۔ گاؤں کے چودھری کا ہمدردانہ سلوک اور والدہ کی خاموش آہیں قاری کے دل کو اندر تک چھو لیتی ہیں۔ یہ اقتباس دراصل اس بات کا عملی نمونہ ہے کہ دنیاوی شان و شوکت اور مال و دولت کبھی ہمیشہ نہیں رہتے، اور مشکل وقت میں انسان کے پاس صرف صبر، ایک دوسرے کا سہارا اور اللہ کی ذات پر توکل ہی وہ واحد راستہ ہوتا ہے جو اسے زندگی کی کٹھن منزلوں سے گزرنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔
